Hesperian Health Guides

کرونا وائرس — COVID-19

COVID-19کرونا وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، جو کہ ایک چھوٹا سا جراثیم ہے جو کہ اس بیماری کو دوسرے لوگو ں تک پھیلاتا ہے۔ COVID-19 شدید نزلہ کی علامات ظاہر کرتا ہے، جیسے کہ خشک کھا نسی ،سانس لینے میں تکلیف،بخار، کمزوری اور جسمانی درد۔COVID-19 عموماً نظامِ تنفس(سانس کے نظام) کو متاثر کرتا ہے۔ اکثر یہ خطرناک نہیں ہوتا، اس کی وجہ سے نمونیا (پھیپھڑوں کا شدید متاثر ہونا) کا شدید حملہ خطر ناک ہوسکتا ہے۔

کرونا وائرس کس طرح پھیلتاہے؟

Corona color Page 1-1.png

کرونا وائرس متاثرہ انسان کے سانس لینے سے، انسانی جسم میں یہ منہ، ناک اور آنکھوں کے زریعے داخل ہوتا ہے کھانسی اور چھینک کے نکلنے والے قطروں سے ، جو کہ صحت مندلوگو ں تک پہنچتے ہیں یا خوراک یا چیزوں پر گرتے ہیں، کو چھو نےسے پھیلتا ہے۔ اکثر لوگ کرونا وائرس لگنے کے 5 دن میں بیمارہو جاتے ہیں۔ لیکن بیرونی جسمانی علامات ظاہرکرنے سے پہلے یہ جسم میں 2سے لیکر 14دن تک رہ سکتا ہے۔ اور کچھ لوگو ں، خصوصا بچوں کو،لگ کر بیمار نہیں کر تا۔ اور کچھ لوگو ں کو کرونا وائرس لگ جاتا ہےلیکن وہ اس عرصے میں بے خبر رہتا ہے کہ اسے بیماری لگ گئی ہے، لیکن وہ اس عرصے میں بھی دوسرے لوگو ں کو بیمار کر سکتا ہے۔ کرونا وائرس کچھ چیزوں پر گرنے کے بعد 3 دن سے ز یادہ تک زندہ رہ سکتا ہے۔ اور ان سے بڑی آسانی سے لوگوں کو لگ سکتا ہے۔

کرونا وائرس کن لو گوں کو بیمار کرسکتا ہے؟

یہ ہر کسی کو لگ سکتا ہے۔یہ ابھی ثابت نہیں ہوا کہ جو ایک دفعہ اس بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہوں اسے یہ بیماری دوبا رہ لگ سکتی ہےیا نہیں۔45سال کی عمر سے زائد افراد، خصوصاً بزرگ افراد، اور ایسے افراد جن کو کو ئی اور بیماری ہو مثلاً سانس کی بیماری یا قوتِ مدافعت(بیماری سے لڑنے کی طاقت) کی کمی کا شکار ہوں زیادہ خطرے میں ہیں اور اُن کو کرونا وائرس شدید متاثر کر سکتی ہے۔

اس بیماری سے کیسے بچا جا ئے؟

فی الحال کرونا وائرس کا کو ئی علاج یا ویکسین یا دیسی علاج مو جود نہیں۔نہ ہی اینٹی بیوٹک ادویات سے اس کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ کرونا وائرس کا صرف علاج اس سے بچنا اور باقاعدگی سے صفائی ہے۔

  • با ربا اپنے ہا تھ دھوئیں: صابن سے یا الکحل سے بنے صفائی والے محلول سے ہا تھ باربار دھوئیں۔
    • اپنے ہاتھ 20سیکنڈ تک اچھی طرح صابن سے دہوئیں۔پور ے ہاتھ بازو تک، کلائی اور ناخنوں کے نیچے تک اچھی طرح دہوئیں۔
    • گھر آنے کے بعد، باتھ روم کے استعمال کے بعد، کھا نے سے پہلے اور کھانسنے، چھینکنے یا ناک صاف کرنے کے بعد ہاتھ صابن سے ضرور دھوئیں۔
    • چہرے کو ہاتھ لگا نے سے پہلے ہاتھ ضرور دہوئیں۔
  • تمام چیزیں،(جیسے کا ؤنٹر، دروازوں کے دستے وغیرہ)جس پر کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کے ہاتھ پڑ سکتے ہیں کو بلیچ یا الکحل سے صاف کریں۔
    • ایسو پروپائل الکحل(Isopropyl alcohol)70%مقدار والے سے صفائی کرنے سے کرونا وائرس جلدختم ہو جا ئے گا۔ اس محلول سے کا ؤنٹر، دروازوں کے دستے وغیرہ صاف کریں۔اس کا 60%سے 70%تک اچھی طرح کام کرتا ہے،100%و الے میں پا نی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو 100%والا الکحل ملے تو اس کو کم کرنے کیلئے 1کپ الکحل میں 2کپ پانی ملائیں۔چیزوں کو پہلے صابن والے پا نی سے صاف کریں اورپھر الکحل سے دھوئیں اور ہو امیں خشک ہونے دیں۔
    • بلیچ:بلیچ عموماً 5%کمحلول کی شکل میں ملتا ہے۔ فرش اور بڑی چیزوں کیلئے پانچ گیلن کی بالٹی میں 2کپ بلیچ ملائیں۔ چھوٹی چیزوں کیلئے3بڑ ےچمچ بلیچ میں 4کپ پانی ملائیں۔پا نی ٹھنڈا ہو، گرم پا نی استعمال نہ کریں۔ چیزوں کو پہلے صابن والے پا نی سے صاف کریں اورپھربلیچ سے دھوئیں اور ہو امیں خشک ہونے دیں۔
  • وہ چیزیں جو زیادہ استعمال میں رہیں اُن کو بلیچ یا الکحل سے باربار دھوئیں۔
  • کپڑوں کو سرف یا کپڑے دہونے والے صابن اور گرم پا نی سے دہوئیں۔

    • ر ماسک کو صحیح طرح استعمال کرنے کیلئے سرجیکل ماسک پہنیں، تا کہ دوسروں تک بیماری نہ پھیلے۔لیکن اگر بیمار نہیں ہیں تو عموماً ماسک پہننے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ صحت مند ہوں اور کرونا مریض کی تیماردار ی کررہے ہوں تو سرجیکل ماسک کا فائدہ نہیں بلکہ
      • ماسک پہننے سے پہلے ہاتھوں کو الکحل کے محلول یا صابن سے اچھی طرح دھو لیں۔ ماسک سے اپنی ناک اچھی طرح ڈھانپ لیں کہ آپ کے چہرے اور ماسک کے درمیان کو ئی خلا نہ رہے۔
      • ماسک کو پہنےہوے ہا تھ نہ لگا ئیں۔ اگر گیلا ہو جا ئے تو نیا ماسک پہن لیں۔
      • ماسک کو دوبارہ استعمال نہ کریں۔N-95 ماسک کو دوبارہ استعمال کر نے سے پہلے160F یا72C گرم پا نی میں30 منٹ تک دھوئیں۔
      • ماسک ہٹانے کیلئے، ماسک کی الاسٹک کی پٹیوں کو سر کے پیچھے سے پکڑ کر ہٹا ئیں۔اور فوراً بند کوڑا دان میں ڈال دیں، اور ہا تھ دہو لیں۔
      • چہرے کو کپڑے سے نہ ڈھانپیں، کیو نکہ یہ آپ کی سانس کی وجہ سے جلد گیلا ہو جا ئے گا اور جراثیم آسانی سے آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔
    • اپنی صحت کا خیال رکھیں: اگر خشک کھانسی، سانس لینے میں دشواری ہوسینےمیں درد یا بوجھ ہو ، اور بخار ہو، تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔کیونکہ اس سے سب بڑا خطرہ سانس لینے میں دشواری (Acute Respiratory Distress Syndrome — ARDS) ہے۔ جسکا علاج آکسیجن اور وینٹیلیٹر ہے جو صر ف ہسپتال میں دستیاب ہے۔
      • This page was updated:02 اپریل 2020