Hesperian Health Guides

خاندانی منصوبہ بندی کی دستیابی آسان بنائیں


اگر کسی علاقے میں خاندانی منصوبہ بندی کی تمام سہولتیں دستیاب ہوں تو کیسا ہوگا؟ نوعمر افراد سمیت تمام عورتیں اور مرد ضبطِ ولادت کے تمام طریقوں کے بارے میں قابلِ بھروسا معلومات حاصل کرسکیں گے۔ ان تمام عورتوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات مناسب قیمت پر دستیاب ہوں گی جو انھیں استعمال کرنا چاہیں، خواہ عورتیں شادی شدہ ہوں یا غیرشادی شدہ۔ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات میں مختلف طریقے شامل ہوں گے تاکہ عورتیں اپنی ضرورت کے مطابق بہترین طریقے کا انتخاب کرسکیں۔ یہ معلومات اور خدمات ہر ایک کی دسترس میں ہوں، جن میں نوجوان، غیرشادی شدہ عورتیں اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو صحت مرکز سے دور رہتے ہیں۔

اگلے صفحات میں چند تجاویز دی گئی ہیں جن کی مدد سے کسی علاقے میں عورتوں کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور خدمات کی فراہمی کو آسان بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

a woman speaking to 2 others.
کلینک پر صرف کنڈوم اور ڈایا فرام دستیاب ہیں، لیکن میں ضبطِ ولادت کی گولیاں استعمال کرنا چاہتی ہوں۔ اگر یہاں بہت سے طریقوں کی سہولتیں ہوں تو زیادہ لوگ خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات استعمال کریں گے۔

عورتوں کے تجربوں سے سیکھیں

اپنے علاقے میں خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے آپ عورتوں سے ان طریقوں کے بارے میں پوچھ سکتی ہیں جو وہ حمل سے بچنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اگر کچھ عورتوں نے کامیابی سے کچھ طریقے استعمال کیے ہیں تو ان کے تجربات سے دوسری عورتوں کو مدد ملے گی۔ ان عورتوں کے خیالات سننے سے، جنھوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے کامیابی سے استعمال کیے ہیں اور وہ ان سے مطمئن ہیں، مانع حمل اشیا اور طریقوں کے بارے میں فرضی خیالات اور خوف کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے دوسری عورتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ اگر خاندانی منصوبہ بندی ان کے حالات کے لیے مناسب ہے تو وہ اسے استعمال کرنے کے بارے میں سوچیں۔

معلوم کریں کہ عورتوں اور نوجوانوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کیوں مشکل ہوتی ہے۔ درپیش رکاوٹوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق بنیادی سوالات کرکے آگہی حاصل کی جاسکتی ہے کہ کون سے طریقے دستیاب ہیں اور ان کی قیمتیں کیا ہیں۔ لوگ خاندانی منصوبہ بندی کی معلومات اور سہولتیں کہاں سے حاصل کرسکتے ہیں؟

a health worker talking with a woman in the doorway of a house.
نیچے چند سوالات دیے گئے ہیں جو آپ عورتوں کے تجربات جاننے کےلیے استعمال کرسکتی ہیں:
  • کیا علاقے میں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے آسانی سے مل جاتے ہیں اور کیا ان کا استعمال آسان ہے؟
  • کیا شادی شدہ عورتوں کےلیے ضبطِ ولادت کے بارے میں معلومات اور اشیا حاصل کرنا مشکل ہے؟ کیوں؟
  • کیا نوعمر افراد اور غیرشادی شدہ عورتوں کے لیے حمل روک طریقوں کے بارے میں معلومات اور سامان حاصل کرنا مشکل ہے؟ کیوں؟
  • خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں زیادہ تر مردوں کی سوچ کیا ہے؟ کیا وہ حمل روک اشیا استعمال کرنا چاہتے ہیں؟ اگر نہیں، تو کیوں؟
  • حکومت خاندانی منصوبہ بندی کی کس طرح حمایت یا مخالفت کرتی ہے؟

معلومات حاصل کرنے کے دوران یہ بات یقینی بنائیں کہ آپ نے علاقے میں مختلف طرح کے لوگوں سے بات چیت کی ہو۔

خاندانی منصوبہ بندی کے راستے کی رکاوٹوں پر بحث کریں

عورتوں کے تجربات جاننے کے بعد غالباً یہ واضح ہو جائے گا کہ وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے عورتیں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقے استعمال نہیں کرسکتیں یا نہیں کرتیں!

.6خاندانی منصوبہ بندی کے راستے کی رکاوٹوں کو جاننے اور ان بنیادی اسباب کو سمجھنے کے لیے جو ضبطِ ولادت کے طریقوں تک مکمل رسائی کو روکتے ہیں، ’’مسئلے کا درخت‘‘ ایک اچھی سرگرمی ہے۔ جب مسئلے کی جڑ کا پتا چل جائے اور یہ سمجھ میں آجائے کہ حالات سے ان کا کیا تعلق ہے تو یہ طے کرنا آسان ہو جاتا ہے کہ کون سے مسئلہ سب سے اہم ہے جسے حل کیا جائے اور اس کے لیے کیا طریقہ استعمال کیا جائے۔

a woman speaking
مسئلے کا درخت تو بہت سے طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا پوسٹر بنا لیں جو موجودہ اجلاس کے علاوہ آئندہ کی میٹنگوں میں بھی بار بار استعمال کیا جائے۔ اس کا ہینڈ آئوٹ بنایا جاسکتا ہے تاکہ اجلاس میں شریک ہر فرد اس سرگرمی کو اپنے طور پر مکمل کرے۔ میں ’’مسئلے کا درخت‘‘ کو ایسی تصویر کے طور پر اپنے کلینک کی دیوار پر لگانا چاہتی ہوں، جسے عورتوں نے خود بنایا اور مکمل کیا ہو۔ بعض لوگوں نے ’صحت مند ساتھی درخت‘‘ بنائے ہیں جنھیں آپ ’’حل کے درخت‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ ان درختوں میں مسائل کے حل جڑوں میں دکھائے گئے ہیں اور ان کے نتائج کو پتوں میں ظاہر کیا گیا ہے۔
سرگرمیخاندانی منصوبہ بندی کی رکاوٹوں پر بحث کے لیے ’’مسئلے کا درخت‘‘


تیاری:

illustration of the below: a blank problem tree.
کاغذ، کپڑے، تختۂ سیاہ یا زمین کے بڑے ٹکڑے پر ایک درخت کی تصویر بنائیں۔ شاخوں اور جڑوں کو سادہ اور خالی رکھیں۔ کاغذ کے عام ورق کے ٹکڑے (ایک ورق کے دو ٹکڑے) کریں جن پر خاندانی منصوبہ بندی کی رکاوٹوں اور خاندانی منصوبہ بندی نہ ہونے کے نتائج لکھیں جائیں گے۔ بعض لوگ اِسٹک نوٹس استعمال کرتے ہیں کیونکہ انھیں ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ آسانی سے چپکایا جاسکتا ہے۔


صحت کے مسئلے کو درخت کے تنے پر لکھیں۔ اس مثال میں یہ مسئلہ ’’خاندانی منصوبہ بندی نہیں‘‘ ہے۔

  1. ۱۔ ۱درخت اور اس کے بنیادی اسباب کا تعارف کرائیں۔
    اگر گروپ بنیادی اسباب سے ناواقف ہے تو آپ خودر و گھاس پھوس کی مثال دے سکتی ہیں، باغ کو ہرا بھرا اور صاف ستھرا رکھنے کے لیے اسے نکال پھینکنا اہم ہوتا ہے۔

  2. ۲۔ کہ ان اسباب یا رکاوٹوں پر بحث کریں جن کی وجہ سے عورتیں
    گروپ سے کہیں غیرمطلوب حمل سے بچنے کے لیے ضبطِ ولادت کے طریقے استعمال نہیں کرسکتیں (اگر ان اسباب کی نشان دہی کرنے میں گروپ کو مشکل ہورہی ہو تو آپ اپنے علاقے میں خاندانی منصوبہ بندی کی رکاوٹوں کے بارے میں کہانی سنائیں جن میں چند اسباب کا ذکر ہو، اور گروپ سے کہیں اس کہانی پر اپنی رائے دے اور بحث کرے)۔ رکاوٹوں اور اسباب کے بارے میں شرکأ کے خیالات کاغذ پر لکھیں جو آپ درخت کی جڑوں پر چپکا سکیں یا زمین پر بنائے گئے درخت کی جڑوں کے قریب رکھ سکیں۔ ہر ایک کو موقع دیں کہ وہ کسی ایک سبب کا نام بتائے جو خاندانی منصوبہ بندی میں رکاوٹ بنتا ہو۔

  3. ۳۔ گروپ نے جو رکاوٹیں یا اسباب بتائے ہیں انھیں بلند آواز سے پڑھیں۔
    گروپ سے کہیں ان پر بحث کریں اور اس سب سے اہم سبب کی نشان دہی کریں جو مختلف جڑوں کے مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ رکاوٹوں کے گروپ پر نظر ڈالنے کے بعد آپ بنیادی اسباب کی مختلف اقسام پر شرکأ کو متوجہ کرسکتی ہیں۔ جڑوں پر ان اقسام کے نام لکھیں۔

    اس سرگرمی کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جڑوں پر اسباب پہلے سے لکھ لیے جائیں۔ جب شرکأ مختلف رکاوٹوں کے نام بتائیں تو انھیں جڑوں پر لکھے ہوئے اس سبب کے قریب لکھیں یا رکھیں جو سب سے زیادہ متعلق ہے (بنیادی اسباب کی اقسام کے لیے دیکھیں
  4. ۴۔ نتائج پر نظر ڈالیں۔ سرگرمی جاری رکھیں۔ شرکأ سے ان مختلف نتائج اور اثرات کے بارے میں پوچھیں جن کا خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے عورتوں، ان کے گھر والوں اور علاقے کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ نتائج اور اثرات کاغذوں پر لکھے جاسکتے ہیں جنھیں درخت کی شاخوں پر لگا دیں۔ شرکأ سے کہیں کہ ایک دوسرے سے متعلق یا ملتے جلتے خیالات والے کاغذوں کو شاخوں پر قریب قریب رکھا جاسکتا ہے۔
    problem tree with root labels including "Cost of methods" and "No education" and consequencces including "Health risks" and "Crowded home."

خاندانی منصوبہ بندی کے فقدان کے بنیادی اسباب

خاندانی منصوبہ بندی کی رکاوٹوں یا اسباب کی درجہ بندی (مسئلے کا درخت یا کسی اور سرگرمی) کے ذریعے شرکأ کو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتوں کی آسان دستیابی کے بارے میں غور شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

سیاسی رکاوٹیں۔ اگر حکومت حوصلہ افزائی نہیں کرتی تو خاندانی منصوبہ بندی کی سہولتیں عام طور پر محدود ہوتی ہیں اور کم طریقے دستیاب ہوتے ہیں خاندانی منصوبہ بندی کے مخالف سماجی رہنما ان سہولتوں کا حصول مشکل بنا سکتے ہیں۔

roots of a tree labeled as political and other obstacles.

معاشی رکاوٹیں۔ ضبطِ ولادت کے طریقے اتنے مہنگے ہوسکتے ہیں کہ عورتیں ان کی قیمت ادا نہیں کرسکتیں۔ اگر معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہو کہ زیادہ بچے_ خصوصاً لڑکے_ خاندان کی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں، تو خاندانی منصوبہ بندی کے لیے عورتوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

سماجی رکاوٹیں۔سخت روایتی صِنفی کردار کا اکثر یہ مطلب ہوتا ہے کہ عورتیں اپنی صحت کے بارے میں خودفیصلے نہیں کرسکتیں اور مردوں کا یہ خیال ہو کہ ضبطِ ولادت سے ان کی مردانگی کم ہوگی۔ نوعمر افراد اپنے والدین ، اساتذہ اور صحت کارکنوں سے اس موضوع پر بات نہیں کرسکتے، اس لیے جنسیت ، جنسی صحت اور حمل روکنے کے طریقوں کے بارے میں انھیں معلومات نہیں ملتیں۔

ثقافتی یا مذہبی رکاوٹیں۔ مذہبی گروپوں کی سخت مخالفت کی وجہ سے لوگوں کے لیے مانع حمل طریقوں کے بارے میں قابلِ بھروسا معلومات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ صحت کارکن خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق تہذیبی معاملوں اور لوگوں کی روایات کو نہیں سمجھتے یا ان کا احترام نہیں کرتے۔


ماحولیاتی رکاوٹیں۔ اگر صحت کی سہولتیں اور صحت مراکز بہت دور ہوں یا وہاں پہنچنا دشوار ہو تو عورتوں کو خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں تک باقاعدہ اور قابلِ بھروسا رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ جن علاقوں میں شیرخوار بچوں کے مرنے کی شرح بہت زیادہ ہو، وہاں عورتیں زیادہ بچوں کی خواہش کرسکتی ہیں کہ شاید ان میں سے کچھ بچ جائیں گے۔

جذباتی رکاوٹیں۔ ہو سکتا ہے کہ عورتوں میں ذاتی وقار کی کمی ہو یا وہ اپنی زندگی سے متعلق فیصلوں پر اختیار نہ رکھتی ہوں۔ وہ صحت کارکنوں پر اعتماد نہیں کرتیں کیونکہ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ان سے صحیح برتائو نہیں کریں گے یا ان کی ذاتی معلومات خفیہ نہیں رکھیں گے۔

جسمانی یا حیاتیاتی رکاوٹیں۔ عورتوں کو مختلف امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ہائی بلڈپریشر، جس کی وجہ سے وہ ان طریقوں کو استعمال نہیں کرسکتیں جو ان کے لیے سب سے بہتر ہیں۔

رسائی بہتر بنانے کے طریقوں کی شناخت

مسائل کے اسباب سامنے آنے کے بعد گروپ ان کے حل اور ایسے اقدامات تجویز کرسکتا ہے جن سے مانع حمل طریقوں تک تمام عورتوںکی رسائی بہتر ہوسکے۔ طریقے منتخب کرنے کے لیے منظم ہوکر اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ ان تمام ممکنہ اقدامات پر غور کرنا ہوگا جن پر انفرادی سطح پر عورتیں، ان کے خاندان اور وسیع تر سطح پر پوری آبادی عمل کرسکتی ہو۔

سرگرمیحلوں پر غوروفکر کے لیے دھاگا پھینکنا


اس سرگرمی کا تعارف کرانے کے لیے شرکأ سے کہیں کہ ’’مسئلے کا درخت‘‘ والی سرگرمی میں بنیادی اسباب سمیت ان رکاوٹوں یا اسباب پر نظر ڈالیں جن کی وجہ سے عورتیں خاندانی منصوبہ بندی پر عمل نہیں کرتیں۔ بتائیں کہ یہ سرگرمی ان حلوں پر غوروفکر میں مدد دے گی جو انفرادی، خاندانی اور علاقے کی سطح پر ممکن ہوسکتے ہیں (’’مسئلے کا درخت‘‘ کی شاخوں کا حوالہ دیں)۔ اس سرگرمی کے لیے ’’نتائج‘‘ کے ’پتے‘ درخت سے ہٹا دیں تاکہ ان کی جگہ ’حل‘ رکھے جاسکیں۔

  1. ۱۔ گروپ کو دائرے کی شکل میں کھڑا کریں۔ میزبان یا سہولت کار دائرے سے باہر ہو گا۔ کسی ایک فرد سے کہیں کہ وہ دھاگے کے گولے کا سرا پکڑے اور خاندانی منصوبہ بندی کی کسی ایک رکاوٹ کا نام لے۔ اب دوسروں سے کہیں کہ کوئی ایک اس کا حل بتائے۔
  2. illustration of the above: yarn toss.
  3. ۲۔ پہلا مرد دھاگے کا سرا پکڑے رہے گا اور گولے کو اس ساتھی کی طرف پھینکے گا جس نے حل پیش کیا ہے۔ دوسرے فرد سے کہیں کہ اپنے پیش کردہ حل کی وضاحت کرے کہ یہ انفرادی سطح پر ممکن ہے، خاندان کی سطح پر یا کمیونٹی کی سطح پر۔پوچھیں کہ کیا کوئی اور شخص کسی اور سطح کے لیے حل پیش کرسکتا ہے۔ (انفرادی ، خاندان یا کمیونٹی کی سطح) جس کا ذکر ابھی نہیں ہوا۔ دوسرا فرد دھاگے کو تھامے رہے گا اور گولے کو اس ساتھی کی جانب اچھال دے گا جس نے حل پیش کیا ہو۔
  4. ۳۔ شرکأ جوں جوں حل پیش کرتے جائیں آپ انھیں کاغذ پر لکھتی جائیں۔ (جنھیں بعد میں ’پتوں‘ کی شکل میں درخت پر لگایا جاسکتا ہے) ان حلوں کو ان کی مناسبت سے ان شاخوں کے علاقے میں لگائیں جو انفرادی، خاندان یا کمیونٹی کی نمائندگی کرتی ہیں۔
  5. ۴۔ کسی اور سے کہیں کہ وہ ایک اور رکاوٹ یا سبب کی نشاندہی کرے اور دوسرے سے کہیں کہ وہ اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے حل بتائیں۔ سرگرمی جاری رکھیں، یہاں تک کہ دھاگے کا ایک جال بن جائے، کیونکہ دائرے کے ہر شخص نے یا تو کسی رکاوٹ کا نام بتایا ہوگا یا اس کا حل پیش کیا ہوگا۔
  6. ۵۔ اختتام سے پہلے گروپ کو دعوت دیں کہ تینوں سطحوں میں سے ہر سطح کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کریں جو رکاوٹیں دور کرنے کے لیے کیے جاسکتے ہیں؛ سرگرمی کے دوران جو جال تیار ہوا ہے اس کے معنی پر بھی غور کریں۔ دھاگے سے بنے جال کو زمین پررکھ دیں اور اب درخت پر لگے حلوں (پتوں) کے گرد جمع ہو جائیں۔ نقطوں سے ووٹنگ کرا کے آپ یہ طے کرسکتی ہیں کہ کون سے عملی اقدامات پہلے کیے جائیں، اور ’منصوبہ عمل بنائیں‘ والی سرگرمی کیسے کی جائے۔