Hesperian Health Guides

محفوظ مامتا میں مردوں کو شامل کریں

a woman speaking.
گر مجھ سے کہا جائے کہ کوئی ایک مشورہ دو تو میں یہ مشورہ دوں گی کہ مردوں کو علیحدہ نہ کرو۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ’ارے حمل، یہ تو عورتوں کا معاملہ ہے ۔‘ لیکن ہم نے بڑی دشواری کے ساتھ یہ سیکھا ہے کہ اگر مرد بھی پیدائش کے بارے میں نہیں سیکھتے اور اس میں شامل نہیں ہوتے تو حالات زیادہ تبدیل نہیں ہوں گے۔

مرد محفوظ ولادت کے لیے عورتوں کے ساتھ شریک ہوسکتے ہیں۔ وہ :

  • صحت مندانہ حمل اور زچگی کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں اور خواتین کی صحت کے تحفظ کے فیصلوں کی حمایت کرسکتے ہیں۔
  • حمل اور پیدائش کی خطرے کی علامات معلوم کرسکتے ہیں اور سیکھ سکتے ہیں کہ ان کے بارے میں کیا کیا جائے اور ٹرانسپورٹ کے لیے ایندھن اور اسپتال کی فیس جیسی ہنگامی ضروریات کے لیے رقم بچا سکتےہیں۔
  • اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ حاملہ عوت کو روز کافی مقدار میں غذااور آرام مل سکے اور حمل کے دوران اس کےہمراہ معائنے کے لیے جاسکتے ہیں۔
  • درد زہ میں کمی کے طریقے (جیسے آرام، تنفس کے طریقے یا مالش)سیکھ سکتے ہیں اور ولادت کے دوران ان طریقوں سے عورت کی مدد کرسکتے ہیں۔
  • ولادت کے بعد چند ہفتوں تک عورت کے کام (گھر کا کام، بچوں کی دیکھ بھال، کھیت کا کام) میں جہاں تک ہوسکے خود مدد کرسکتے ہیں اور دوسروں کو یہ کام سونپنے کے لیے منصوبہ بندی کرسکتے ہیں تاکہ اس کے زخم بھر جائیں اور طاقت بحال ہوجائے۔


4 men siting together and talking.
میں اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت موجود نہیں تھا لیکن میں نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ میری بیوی کے ساتھ رہے اور ضروریات کے لیے رقم بچا کر رکھی ۔
جب میں پیدا ہوا تو میرے والد اپنے دوستوں کے ساتھ چائے خانے میں تھے۔ لیکن جب میرا بیٹا پیدا ہوا تو مجھے پتہ تھا کہ مجھے زچگی کے دوران تمام وقت اپنی بیوی کے ساتھ ہونا چاہیے۔
میری بیوی نے مجھے ایک کلاس میں شرکت کرائی جو صرف مردوں کےلیے تھی۔اس سے مجھے خطرے کی علامات کے بارے میں پتہ چلا اور جب اس کی پانی کی تھیلی پھٹ گئی لیکن دردزہ شروع نہیں ہوا تو میں اسے سیدھا اسپتال لےگیا۔
میری بہن فیکٹری میں ملازم ہے۔ جب فیکٹری جاتے ہوئے اسے درد زہ شروع ہوا تو ایک بس اسٹاپ پر اجنبی لوگوں نے اس کی مدد کی! اس سے مجھے احساس ہوا کہ پیدائش اور خطرے کی علامات کے بارے میں ہر ایک کو پتہ ہونا چاہیے۔

مرد، عورتوں کی زچگی کے تجربات کے بارے میں سیکھ سکتے ہیں

اگر مردوں کو بالکل پتہ نہ ہو کہ زچگی کیا ہوتی ہے تو ان سے بچے کی پیدائش میں معاونت کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟مردوں اور عورتوں دونوں کو زچگی کی تعلیم دینے کا ایک طریقہ پیدائش کے بارے میں کوئی فلم یا خاکہ دکھانا اور اس پر گفتگو کرنا ہے۔ فلموں یا خاکوں سے یہ بھی دکھایا جاسکتا ہے کہ مرد زچگی کے دوران مختلف طریقوں سے کیسے مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

اگلے دو صفحات پر دی گئی سرگرمی ’پیدائش کے تجربات کے بارے میںمچھلی کا پیالہ ‘ سے مردوں کو موقع ملتا ہے کہ وہ زچگی کے بارے میں اپنے تجربات بیان کرنے والی عورتوں کی باتیں سن سکیں۔ بعد میں ہونے والی بحث سے عورتوں اور مردوں میں یہ بتانے کا حوصلہ بڑھے گا کہ زچگی کے دوران مددگار مرد ہونے کے لیے انہیں ایک دوسرے سے کیا چاہیے۔

2 women speaking while looking together at a sheet of paper.
ہمارے ہاں مردوں کا زچگی جیسے نسوانی معاملات کے بارے میں عورتوں سے باتیں سننا بڑے شرم کی بات سمجھی جاتی ہے۔
پہلی بار میں نے یہ سرگرمی کی تو صرف بہت کھلے ذہن کے اور نوجوان افراد نے شرکت کی۔ لیکن جلد ہی مرد ایک دوسرے سے اس سرگرمی کے بارے میں گفتگو کرنے لگے اور شرکت کرنے والوں نے ہماری اجازت سے دوسرے مردوں کو اس بارے میں آگاہ کرنا شروع کردیا۔
a woman in a hijab speaking.
مسلمان عورتیں پیدائش یا جنس کے بارے میں مردوں سے کوئی بات نہیں کرسکتیں۔ لیکن مذہب اور روایات کے احترام کے ساتھ مردوں کو شریک کرنے کے طریقے موجود ہیں۔ ہم نے مردوں کی تربیت کی ایک تقریب کی جو امام کی اقتدا میں نماز سے شروع ہوئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ مسجد کی جانب سے ہمارے کام کی حمایت کی جارہی ہے۔
سرگرمیپیدائش کے تجربات کے بارے میں مچھلی کا پیالہ

  1. ۱۔ چار سے چھ خواتین کو جو بچے پیدا کرچکی ہوں ایک حلقے کی شکل میں لائیں (انہیں تیار کرنے کے لیے آپ پہلے ان سے ملاقات کرسکتی ہیں)۔

  2. ۲۔ مرد، عورتوں کے حلقے کے گرد ایک اور حلقہ بنالیں یا پھر مردوں اور عورتوں کے درمیان کوئی پردہ وغیرہ ڈالا جاسکتا ہے ۔

  3. ۳۔ دونوں گروپوں کو سمجھائیں کہ کیا ہونے والا ہے:

  4. a woman and a man speaking.
    مرد حضرات ،براہ کرم صرف سنتے رہیں، کچھ بولیں نہیں۔ آپ کی باری بھی آئے گی۔
    میں عورتوں کے ساتھ پیدائش کے بارے میں ایک گفتگو کی رہنمائی کروں گی۔


  5. ۴۔ عورتوں کو اپنی زچگی کے تجربات کے بارے میں بات کرنے میں مدد دینے کےلیے آپ کچھ اس قسم کے سوالات کرسکتی ہیں:
    •    آپ اپنی اس زچگی کے بارے میں کیا کہیں گی جو منصوبے کے مطابق نہیں ہوئی؟
    •    ز چگی کی تکلیف سے آپ کیسے نمٹیں؟ کس چیز سے مدد ملی؟
    •    پیدائش کے دوران دوسروں نے کیسے مدد کی؟
    •    زچگی میں آپ کو کون سی چیز پسند آئی یا کس چیز سے مزہ آیا؟ کیا چیز مشکل تھی؟
    •    زچگی سے آپ میں کیا تبدیلی آئی؟
    •    زچگی کے دوران کیا آپ کی مدد کرنے کے لیے مرد موجود تھے یا کسی نہ کسی طرح انہوں نےمدد کی؟انہوں نے کیا کیا؟
    •    کیا مردوں کی جانب سے مدد نہ ملنے نے زچگی پر اثر ڈالا؟ کیسے؟
    •    اگر زچگی کے دوران کوئی ہنگامی صورت پیدا ہوئی تو مدد حاصل کرنے کے فیصلے میں مردوں نے کیا کردار ادا کیا؟
  6. illustration of the above: several men sitting in a circle around an inner circle of women.
  7. ۵۔ لگ بھگ تیس منٹ بعد عورتیں اپنی گفتگو بند کردیں گی اور گروپ لیڈر مردوں سے پوچھے گا کہ انہوں نے کیا سنا۔ وہ یہ بھی پوچھے گا کہ آیا انہیں عورتوں سے کچھ سوالات کرنے ہیں۔
  8. ۶۔ گروپ لیڈر مردوں کے سوالات پوچھے گا اور عورتوں سے جواب لے گا۔
  9. ۷۔ Iگر مرد اور عورتیں ددحلقوں کی شکل میں ہیں تو اب یہ تبدیلی لائیں کہ مرد اندرونی حلقے میں ہوں اور گفتگو کریں۔ اس بار عورتیں سنیں گی۔ مردوں سے کچھ اس طرح کےسوالات کیے جاسکتے ہیں:
    •    پہلی بار باپ بننا کیسا لگتا ہے؟ باپ بننےسے آپ کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی؟
    •    اپنے بچوں کی پیدائش کے وقت آپ کہاں تھے؟
    •    کیا پیدائش میں آپ شامل ہوئے؟ کیسے یا کیوں نہیں؟
    •    کیا آپ نے خوشی منائی؟ کیسے یا کیوں نہیں؟
    •    اس بارے میں آپ کے احساسات کیا تھے کہ آپ کی بیوی زچگی کے دوران کس تجربے سے گزر رہی ہوگی؟

  10. ۸۔ بحث کا رخ زیادہ عمومی سوالات کی طرف موڑیں۔ مرد اور عورتیں اس بارے میں کیا سوچتے ہیں کہ زچگی کے دوران مرد کیسے معاونت کرسکتے ہیں؟

    پہلے عورتوں سے پوچھیں: زچگی سے پہلے، بعد اور زچگی کے دوران مرد عورتوںکی کس طرح مدد کرسکتے ہیں یا سہارا بن سکتے ہیں؟ کن رویوں یا خیالات کو بدلنے کی ضرورت ہے؟ اگر کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو مرد مدد حاصل کرنےمیں کیونکر مددگار ہوسکتے ہیں؟ برادری کے دوسرے لوگ اس سلسلے میں کیا کرسکتے ہیںکہ مرد بچوں کی پیدائش کے دوران زیادہ مددگار ہوں؟

    آخر میں آپ سرگرمی ’سر، دل اور ہاتھ ‘استعمال کرسکتی ہیں جو اگلے صفحے پر بیان کی گئی ہے۔

  11. 4 men sitting together and talking.
    میں ہمیشہ کام کے لیے شہر میں ہوتا ہوں۔ اپنے بھائی سے کہوں گا کہ مدد کرے۔
    میری بیوی خوش تھی کہ میں ا س کے ساتھ کلینک گیا۔ اس نے کہا کہ اس سےسفر آسان ہوگیا اور وہ اتنی تھکی بھی نہیں۔
    پہلے میں جانا نہیں چاہتا تھا لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ ہم دونوں بچے کے والدین ہیں!
    مڈوائف چاہتی ہے کہ میں اپنی بیوی کے ساتھ معائنوں کے لیے جاؤں۔ لیکن اسےمیری ضرورت نہیں!

اس طرح رہنمائی کے تحت غوروفکر کرنا کسی ورکشاپ یا بحث کو ختم کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔ اس سے ہر ایک کو سیکھی ہوئی چیزوں (سر) او ران سے متعلق احساسات (دل) کے بارے میں سوچنے اور دوسروں کو بتانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اہم ترین حصہ یہ ہے کہ شرکأ بتائیں کہ وہ کیا مختلف کریں گے یا کیا تبدیلی لانا چاہیں گے (ہاتھ)۔ اس میں زیادہ وقت یا سامان کی ضرورت نہیں ہوگی۔

سرگرمیسر، دل اور ہاتھ

گروپ کو دعوت دیں کہ وہ دائرے کی شکل میں بیٹھے یا کھڑا ہو اوربحث یا ورکشاپ کے بارے میں ایک منٹ تک خاموشی سے غوروفکر کرے۔

  1. ۱۔ سوچ بچار کے لیے مندرجہ ذیل سوالات کریں: ورکشاپ یا اجلاس کے دوران کیا ہوا؟ جو کچھ سیکھا اس کے بارے میں سوچیں۔ لوگوں کو اس سوال پر خاموشی سے غور کرنے کے لیے ایک دو منٹ دیں ۔ پھر تین یا چار شرکأ سے کہیں کہ جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے گروپ کو بتائیں۔ (اگر زیادہ لوگ بتانا چاہتے ہیں تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وقت ہو!)۔
  2. a man speaking.
    میں بہت خوش ہوا۔ پیدائش کی کہانیوں سے مجھے یاد آیا کہ جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میں کتنا خوش ہوا تھا۔
  3. ۲۔ اب ہر ایک سے کہیں کہ ورکشاپ یا بحث کی کسی ایک چیز کے بارے میں اپنےاحساسات بتائے۔ لوگوں کو اس سوال پر خاموشی سے غور کرنے کے لیے ایک دو منٹ دیں۔ پھر تین یا چار شرکأ سے کہیں کہ جو کچھ انہوں نے محسوس کیا گروپ کو بتائیں (بہتر ہوگاکہ لوگوں کو رضاکارانہ طور پر خود آگے آنے دیں، نہ کہ انہیں پکار کر بلایا جائے کیونکہ ہوسکتا ہے وہ بولنے پر آمادہ نہ ہوں)۔
  4. ۳۔ اب ہر ایک سے کہیں کہ کسی ایک چیز کے بارے میں سوچیں جو وہ آج کی بحث کے بعد کریں گے۔ لوگوں کو اس سوال پر غورکرنے کےلیے ایک دو منٹ دیں۔ پھر تین یا چار شرکأ سے کہیں کہ جو کچھ وہ کریں گے گروپ کو بتائیں یا پھر جو بولنا چاہے بولے۔
a man speaking.
میں اپنے بھائی سے بات کروں گا۔ اس کی بیوی حاملہ ہے اور میں بھائی سے اس بارے میں بات کروں گا کہ ممکنہ ہنگامی حالات میں اسے اسپتال لے جانے کے لیے تیاری کتنی ضروری ہے۔

مرد زچگی اور خطرے کی علامات کے بارے میں سیکھتے ہیں

افغانستان میں زچگی کے موقعے پر مرد موجود نہیں ہوتے اور بہت کم ہی اس کی تیاری کرتےہیں۔ لیکن مردوں کے ایک گروپ نے زچگی کے بارے میںمردوں کی ایک کلاس میں شرکت کی اور اب ان میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔ تربیت دینے والوں نے خطرے کے علامات کے بارے میں بتانے کے لیے تصویری کارڈ استعمال کیے اور پیدائش کے دوران فوری فیصلوں کی مشق کے لیے ڈراموں کا استعمال کیا۔ ڈراموں میں تمام کردار -حتیٰ کہ ’ساس ‘ اور ’حاملہ ‘ کا کردار-ادا کرتے وقت مرد بہت سنجیدہ تھے۔

a sick-looking woman, a man, and 7 young children, all in torn clothing.


نے خاندانی منصوبہ بندی کا استعمال نہیں کیا۔ ان کےہاں تقریباًہر سال بچہ ہوتا تھا اور کئی زچگیوں میں مسائل پیش آئے۔ عورت کے پچھلی دو زچگیوںمیں بچے کی پیدائش کے بعد بہت زیادہ خون بہا۔ زچگیوں کے درمیان طاقت بحال کرنے کا موقع نہ ملنے کے باعث وہ بہت کمزور ہوگئی۔ آٹھویں بچے کی پیدائش کے بعد وہ بہت بیمار ہوگئی اور اللہ کو پیاری ہوگئی۔

a happy, healthy woman with a man and 2 children several years apart in age.

دوسری کہانی میں ایک عورت اور مرد کا ذکر تھا جس نے خاندانی منصوبہ بندی کا استعمال کیا تھا۔ پہلے بچے کی پیدائش کے بعد انہوں نے کئی سال کا وقفہ دیا۔ ان کے بچے اسکول جانے کے قابل ہوگئے اور عورت تندرست اور مضبوط رہی۔ مردوں نے دیکھ لیا کہ ان کی برادریوں میں دونوںقسم کے خاندان موجود ہیں اور یہ کہ خاندانی منصوبہ بندی اور ضبط ولادت کے کسی طریقے کے استعمال کے بارے میں اپنی بیوی سے بات کرنے میں مرد کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دونوں کنبوں کا موازنہ کرنے کے لیے سرگرمی ’کہانی کا کھیل: دو کنبوں کا قصہ ‘ استعمال کی جاسکتی ہے۔

تربیت کا مشکل ترین حصہ وہ تھا جب مردوں نے حاملہ عورتوں اور بچوں کی کہانیاں سنائیں جو اس لیے جان سے گئے کہ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان کی مدد کیسے کی جائے۔ مردوں نے تربیت دینے والوں کے تصویری کارڈز کی نقلیں بنائیں تاکہ خطرے کی علامات کے بارے میں جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے اپنی بیویوں، کنبوں اور پڑوسیوں کو دکھاسکیں۔ جب ان میں سے کچھ عورتوں کی لیبر طویل ہوئی اور زچگی میں رکاوٹ کی علامات نظر آئیں تو مرد تیار تھے اور انہوں نے اسپتال تک طویل سفر کرنےکا فوری فیصلہ کیا۔